Sohni Digest

Romantic Urdu Novels Collection, Urdu Stories, Online Reading Urdu Novels PDF download

Adab Me Be Adbi

Adab Me Be Adbi (Abusive Language in Writings) is an Urdu Article written by Miss Sehrish Fatima on a hot issue of today’s writing style, where some writers use inappropriate words, vulgar language or situations while writing a story or essay, or even use abusive words & slangs in the name of literature or situational demand of the script. They give reference of legendary Urdu writers that they used vulgar things in their writings, so we can also do the same. She also suggested that there should be a formal code of ethics practiced by all writers and publishing houses, so these abusive language and vulgar situations in stories, may not reach the minors and women of the families.
Adab Me Be Adbi (Abusive Language in Writings) is an Urdu Article written by Miss Sehrish Fatima on a hot issue of today's writing style. Page No. 1
Adab Me Be Adbi (Abusive Language in Writings) is an Urdu Article written by Miss Sehrish Fatima on a hot issue of today's writing style. Page No. 2

urdu quotes urdu poetry youtube channel link

1 Comment

Add a Comment
  1. Good job Sehrish Fatima! Similarly I wrote an article upon this topic. Do read it for your knowledge.

    برصغیر میں رائج لشکری زبان اردو نے تو اس معاشرہ کو لشکری نہ بنایا حالانکہ ایرانی، عرب، ترک، چینی اور ہند کے امتزاج سے بنا یہ معاشرہ تہذیب و تمدن اور اخلاوقی قدروں کا اساس تھا لیکن ایک روایتی ناچ گانے اور فحاشی کا ناسور جو کسی کونے میں پڑا اپنا حدف دیکھ رہا تھا اس نے برصغیر پاک و ہند کو ایک دم اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ہم ہندوستان قدیم کے باشندے خواہ وہ منگول، آرین یا جٹ ہوں کبھی بھی بے حیائی یا اخلاق باختہ حرکات کے امین نہیں گردانے گئے رہے عرب تو مسلمانان عرب کی اساس تو تھی ہی حیاٴ پر لیکن یہ اچانک کیا ہوا اور کیسے ہوا کہ ہمارا معاشرہ مردوزن کے ان معاملات کی طرف زیادہ جھکتا گیا جس سے ہمارے سلف بڑی عمر میں ہی آشنا ہوتے تھے۔
    ٹیڈی پی ٹی وی کے ڈراموں سے نکل کر جب سٹار پلس اور جیو انٹرٹینمنٹ پر آتا ہے تو حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اب چوہدری حشمت ”وارث” ڈرامے کی جگہ ہر طرف ایک ہی موضوع لئے لڑکی لڑکا والدین کی عصمت دری پر مامور ہیں۔ لکھاری اس گھناونے موضوع سے باہر نکل کر لکھ ہی نہیں رہا، یہاں تک کہ ایک ہی ڈرامے میں ماں بیٹی اگھٹے عشق فرماتے دکھائی جاتی ہیں۔ ہمارے جہلا دانشور آزادی کے نام پر نسل برباد کرنے پل تلے ہوئے ہیں ۔ یہاں تک کہ اس پاکیزہ معاشرہ میں اولڈ ہومز نے جنم لینا شروع کردیا۔
    ٹیڈی آزادی نسواں نہیں آزادی مرداں کے خلاف ہے، آخر معاشرے کے اس بگاڑ کا زمہ دار یہی ہے، اپنے خواہشات کو صفحہ قرطاس پر اتارنے کے بعد اس کی قلم کی کھوکھ سے جنم لینے والے یہ حیوانی رویے معاشرے میں بگاڑ کا سبب ہیں۔ والدین ٹی وی کا سوئچ آف کر سکتے ہیں لیکن حضرت انسان کی حیوانی خواہشات کو دبانا شاید اب والدین کی بس کی بات نہیں۔ موبائیل، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ نے صیح اٹھ کر قدرت کا مشاہدہ کرنے کی تمام تر رسومات کو تقریبا ختم کر دیا، تعلیم کے نام پر انٹرنیٹ پر رت جگے اب اواد کے لئے مجبوری ٹھرے۔ صبح خیزی گئی بھاڑ میں شام اور رات کی شفٹ موزوں ٹھہری۔
    ٹیڈی معاشرے کے اس بگاڑ کی کچھ زمہ داری ان لوگوں پر بھی ڈالتا ہے جو سیکولرزم کی آڑ میں ”فحش ازم” پھیلا رہے ہیں اور نوجوانوں میں بھی مقبول ہیں، کیوں نہ ہوں ان کے جذبات کی نمائندگی جو ہو رہی ہے۔ اقبال کے شاہیں کی مخالفت کر کے پنجابی فلموں کے ڈائیلاگ رائیٹر جب اس قوم کے دانشورکہلائیں گے تو یہ بگاڑ بڑھتا ہی جائے گا۔
    ٹیڈی مذکورہ معاملہ کا حل قارئین پر چھوڑتا ہےاور قلم کی جگہ کی بورڈ بند کرتا ہے، پڑھیں اور حل تلاش کر کے ٹیڈی کو بھی بتائیں اور ثواب دارین حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد سے بھی فائدہ اٹھائیں۔ صدقہ جاریہ ہے شیئر کریں۔
    ٹیڈی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *